سندھ کی تقسیم ،متعصب لوگ لازم بنارہے ہیں ۔عارف مصطفیٰ

سید عارف مصطفیٰ

1 نومبر 2017ء

یہ تحریر 356 مرتبہ دیکھی گئی۔

قائداعظم نے پاکستان کے قیام کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان مسلمانوں نے نہیں ہندوؤں نےبنایا ہے۔ ان کے اس جواب میں بڑی تاریخی گہرائی موجود تھی جس کی بنیادوں میں بہت تلخ معاشی و سماجی حقائق موجزن تھے ۔لگتا یوں ہے کہ اگر اب بھی آنکھیں نہ کھولی گئیں تو مستقبل میں ایسا ہی کوئی جواب سندھ کی تقسیم سے متعلق بھی دیا جا رہا ہوگا ۔ اور اگر ایسا ہوا ( کہ جس کا ہونا اب زیادہ ناممکن بھی نہیں لگتا ) تو اس کی ذمہ داری سراسر سندھ کی قوم پرست جماعتوں اور سیاسی اشرافیہ پہ ہوگی کیونکہ اگر ظلم و زیادتی کا خاتمہ نہ کیا گیا توموجودہ دراڑ ایک ناقابل بھرائی شگاف میں بدل جائے گی کیونکہ محض دھمکیوں سے کسی تقسیم کو تادیر ٹالا نہیں جاسکتا اور ویسے بھی جبکہ آصف علی زرداری اور کئی دیہی سندھ کے سیاستدان حقوق کی صحیح تقسیم نہ کرنے کی بنیاد پہ جنوبی پنجاب اور بہاولپورکے علاقوں پہ مشتمل دو الگ صوبے پنجاب ہی میں سے تخلیق کرانے کی بات کرتے ہیں تو وہ اس سے بھی زیادہ سنگین زیادتیوں کی جائز شکایت پہ سندھ کے شہری طبقے کی الگ صوبے کی مخالفت بھلا کیسے کرسکتے ہیں۔

آئیے اس موضوع کے حوالے سے ذرا برسر زمین حقائق کو سرسری سی تجزیاتی نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں ۔ کہتے ہیں کہ سندھ کبھی صوفیوں اور اولیا کا مسکن ہوا کرتا تھا ، لیکن ۱۹۷۳ کے آئین میں کوٹہ سسٹم نام کے امتیازی قانون کو شامل کیے جانے کے بعد سے بدقستی سے یہ ایک مخصوص نسل پرست انتظامیہ و متعصب سیاستدانوں کی چراگاہ بن چکا ہے کہ جہاں نہ میرٹ کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی ریاستی قانون میں دیے گئے حقوق کا کوئی تحفظ اور خصوصاً شہر کراچی تو گویا اس کا خصوصی ہدف ہے اورلگتا یوں ہے کہ کراچی والوں کا کوئی والی وارث نہیں ۔ یہ وہ بدنصیب شہر ہے جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے اور معاشی مرکز ہونے کے باوجود سب سے زیادہ نفرت اور تعصب کا شکار ہے اورگو کہ کسی حد تک ایسا ہی رویہ حیدآباد سکھر اور میرپور خاص کے ساتھ بھی ہے لیکن کراچی والے تو بالخصوص نشانے پہ ہیں ۔

کوئی میری بات کو نہ مانے تو خود ذرا سندھ سیکرٹریٹ جائے اور اپنی آنکھوں سے وہاں تعصب کے بدنما بھوت کو ناچتا دیکھے کہ اتنی بڑی و کئی منزلہ بلڈنگ میں اس شہر کے باسی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں اور اردو بولنے والے ہوں یا پنجابی ، پختون ، کشمیری یا ہزارہ وال ، اپنے ہی شہر کے اس سب سے بڑے سرکاری کمپلیکس میں شدید کمپلیکس کا شکار بنادیے گئے ہیں اور چوروں کی طرح دبے پاؤں پھرتے ہیں اور ایک اسی جگہ پہ موقوف نہیں ، سندھ کے محکموں اور اداروں میں اکثرجگہ ایسی ہی صورتحال ہے اور مرے پہ سو درے یہ کہ قوم پرستوں نے دیہی علاقوں میں موجود محکموں اور دفاتر میں تو پہلے ہی شہری کوٹے کے افراد کا کام کرنا قطعی ناممکن بنا رکھا ہے اور یہی حال وہاں قائم پروفیشنل تعلیمی اداروں میں مختص شہری کوٹے کے طلبا کا ہے کہ وہ وہاں اگر کسی طرح داخل ہوبھی سکیں تو ذرا ٹہر کے اور پڑھ کے تو دکھائیں اور بالآخر یہ نشستیں بھی ان سے لے کر دیہی طلبا کو دے دی جاتی ہیں اور بھلے خالی بھی رہ جائیں لیکن شہری طلبا کو ان سے دور رکھا جاتا ہے۔

اسی طرح صوبے میں سرکاری طور پہ منظور کردہ و اعلان کردہ چالیس فیصد شہری کوٹے پہ عملدرآمد کی شرح بھی شرمناک حد تک کم ہے اور اس کوٹے کا بڑا حصہ بھی دیہی سمت میں دیا جارہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ شہری کوٹے کی جو ملازمتیں اس مد میں دی بھی جاتی ہیں وہ بھی زیادہ تر اس علاقے میں موجود دیہی آبادیوں میں بسنے والے افراد کو ہی دی جاتی ہیں ۔ یہ صورتحال اس قدر گھناؤنے اور ننگے تعصب میں ڈھل چکی ہے کہ اب عالم یہ ہے کہ سندھ کی ۵۵ کارپوریشنوں میں سے صرف سات یا آٹھ کے سربراہان کا تعلق شہری سندھ سے ہے اور صوبے کے ۲۹ اضلاع میں سے صرف ۲ کے ڈپٹی کمشنروں کا تعلق شہری علاقوں سے ہے اور سارے صوبے کے نام پہ قائم بینک میں کام کرنے والے ۱۷ ہزار افراد میں سے ایک ہزار سے بھی کم افراد شہری سندھ سے ہیں۔

یہ بھی عرض کردوں کہ یہاں بیان کردہ اعداد وشمار وہ حقائق ہیں کہ جنہیں مسترد کرنا حکومت کے لیے بہت آسان ہے کیونکہ اگر وہ غلط ہیں تو جواب میں حکومت وہ اعدادو شمار پیش کردے جو مستند ہوں یہاں میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس عروس البلاد کا بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے شہریوں کو کئی دہائیوں تک الطاف حسین نے بیوقوف بنایا اور انہیں آسرے دے دے کر ان سے ووٹ اور نوٹ دونوں سمیٹے اور ان سے حاصل کردہ سیاسی طاقت کے بل پہ اپنے اور اپنے آدمیوں کے لیے ہر ممکن فائدہ بٹورا اور دنیا بھر میں جائیدادیں بنائیں اور کاروبار قائم کیے ، لیکن ان کے جائز حقوق کے لیے کچھ بھی نہیں کیا اور جن مطالبات کے بل پہ انہوں نے یہ طاقت حاصل کی تھی بعد میں پلٹ کے کبھی اس جانب انہوں نے دیکھا بھی نہیں ۔۔۔ لیکن انہوں نے جو کیا سو کیا ،۔

سوال یہ ہے کہ اب مصطفیٰ کمال فاروق ستار اور آفاق احمد کیا کررہے ہیں ۔ کیا کسی ایک نے بھی یہاں کے شہریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے کوئی جدوجہد کی ؟؟ یہ ٹھیک ہے کہ آفاق احمد کی تنظیمی قؤت اب بھی عملاً لانڈھی تک محدود ہے لیکن وہ اسے اپنی بےعملی کے لیے ہرگز جواز نہیں بناسکتے ، اسی طرح فاروق ستار بھی محض منہ کے فائر کرنے کے شوقین نظرآتے ہیں اور شہری سندھ کے جینیئن مسائل کے لیے عملی طور پہ کچھ کرنے کے بجائے بیان بازی ہی کو کافی سمجھ رہے ہیں ، باقی رہے مصطفیٰ کمال تو لگتا ہے کہ ان کی سرگرمیوں کا مقصد صرف دوسرے گروپوں سے ہرقیمت پہ لوگوں کو توڑنے اور طاقتوروں کی چھتری تلے لاکے ان کے تمام جرائم معاف کرانا ہی ہے اوراس ضمن میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کے ایک پراپرٹی ٹائیکون کے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال ہورہے ہیں ۔

انہوں نے نہ تو کبھی شہری سندھ کے لوگوں کے لیے روزگار دلانے اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی بات کرنے میں سنجیدگی دکھائی اور نہ ہی ابھی تک دیگر اہم مسائل ان کی توجہ کا مرکز بن سکے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہ کررہے ہیں کہ اپنے ہر مخالف سے نمٹنے کے لیے فون کرنے اور کرانے پر انحصار کیے ہوئے ہیں اور حقوق کے حصول کی جدوجہد تو گویا ان کا موضوع ہی نہیں ہے ۔ انہیں چاہیے کہ قدرت نے انہیں جو موقع دیا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا کے اپنے علاقوں کے روندے گئے حقوق کی بحالی اور پچھلے تمام نقصانات کی تلافی کی تحریک چلائیں اور باقی تمام اسٹیک ہولڈروں کو بھی ساتھ ملائیں ورنہ انہیں بھی ماضی کی تلخ یادوں کا حصہ بنتے دیر نہیں لگے گی ۔

آخر میں سندھ کی سیاسی اشرافیہ کے لیے میرا یہ واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ آنکھیں کھولیے اور اصلاح احوال کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کیجیئے کیونکہ اگر اب بھی ۴۴ بر س سے جاری بدبودار کوٹہ سسٹم اور موجودہ بد ترین تعصب کو ختم نہ کیا گیا تو پھر سندھ کی تقسیم کو نوشتہٗ دیوار سمجھیے کہ یہی تاریخ کی گواہی ہے!

Source, https://www.mukaalma.com/12413