سرائیکی صوبے کی قوالی پر مدہوش عوام کے نام۔۔۔

عبدالباسط صائم / January 29, 2013

میرا تعلق بہاولپور سے ہے۔۔۔

میں بہاولپوری، پھر سرائیکی، پھر پنجابی، پھر پاکستانی، پھر مسلمان اور سب سے بڑھ کر انسان ہوں۔۔۔

مجھے ترتیب اور تفریق کا فرق سمجھ میں آتا ہے اور میں برملا کہتا ہوں، کہ جس طرح اسلام کے رشتے کے تقدس میں وطن حائل ہونے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ملک کے تقدس کا سوال ہو، اس کے مفاد کو ذک پہنچ رہی ہو تو صوبے یا شہر اور علاقہ کی پہچان کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ زبان کی پہچان زبان کے مقابل دکھائ جاتی ہے۔

صوبوں کی تقسیم کی بندر بانٹ میں بہاولپوریوں کو یا سرائیکیوں کو اتنی ہی روٹی ملے گی جتنی بلیوں کے حصے میں آئے تھے۔۔۔ یہ سیاسی بندر اپنے ترازو میں عوام کا حصہ کبھی نہیں رکھتے۔ ایسی سادہ لوح عوام کہ ایک پارٹی انہیں سرائیکی صوبے کی قوالی پر مدہوش کر رہی ہے اور دوسری پارٹی بحالی صوبہ بہاولپور کے نام پر مزاحمتی کھیل رچا رہی ہے۔ مقصد صرف متوقع الیکشن سے پہلے سیاست کی رادھا کو نچا کر تماش بین عوام سے ووٹوں کی بارش کروانا ہے۔۔۔ میں خود سرائیکی ہوں، مگر اپنے بھائیوں کو بتاتا چلوں، کہ صوبہ بنانے سے اگر حقوق کی جنگ جیتی جا سکتی ہے تو پہلے ذرا بلوچستان کے حقوق کا مطالعہ کیجئے جو ابھی تک صوبہ ہونے کے باوجود حقوق کا رونا رونا رو رہا ہے۔۔۔

میں انتظامی امور کی بنیاد پر بنائے جانے والے صوبوں کا حامی ہوں، اور ذیادہ سے ذیادہ صوبے بنائے جانے کے حق میں ہوں۔ مگر زبان، رنگ علاقے کے نام پر تعصب اور نفرت قوموں کے حصوں میں آتا ہے۔ صوبوں کے حقوق اور ان کا تحفظ نہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ کل میں اپنے بچوں کو بتاؤں کہ ہم نے زبان کی بنیاد پر پنجاب کے دو ٹکڑے کئے تھے، اور اسی لئے ہمارا نام بہاولپور جنوبی پنجاب ہے۔۔۔آدھا تیتر آدھا بٹیر۔۔۔ اور ہمارے سوئے ہوئے جاہل حکمران اس وقت بہاولپور کو ‘ بی جے پی ‘ کا نام دے رہے تھے، جب خود بھارت ” بی جے پی’ پر پابندی لگانے کا سوچ رہا تھا۔۔۔ نیت سیاست نہ ہو، تو صوبہ نہیں صوبے ہمارے ملک کے عظیم تر مفاد میں ہوں گے، مگر صاحبانِ سیاست کو ملک نہیں، اپنا ذاتی اور جماعتی مفاد عزیز ہے۔۔۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ اس سیاست کی کالی دیوی کے مزار پر، ہمارے جمہوری ناخدا ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور نظریاتی بنیادوں کی چتا جلاتے آئے ہیں۔۔۔ اس لئے کم سے کم عوام کو بے سمجھی سے باز رہ کر ذات کی بجائے ملک کے مفاد کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔۔۔ ایک نکتے کی بات بتا دیتا ہوں، کہ اس قرارداد کے حق میں بولنے والا ہر شخص آپ کو سرائیکیوں، بہاولپوریوں، سیاسی جماعتوں کے حق میں سود مند فیصلے کی نوید سناتا نظر آئے گا۔۔۔ مگر اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔۔۔ اس سے پوچھنا۔۔۔ پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا اس سے؟؟؟ اور اگر اس کے پاس کوئی جواب نہ ہو، تو سلام بھیج کر چل دیجئے گا، کیونکہ وہ اگلے سوال میں پوچھے گا، کہ اس سے پاکستان کو نقصان کیا ہے؟؟؟ اور یہ سوال خود اس امر کی نشاندہی ہے کہ اس کا فائدہ کم سے کم پاکستان کا فائدہ نہیں ہے۔۔۔

Source, https://www.facebook.com/nazeer.kahut