جب انگریز آزاد پنجاب پر قابض ہوا

پچھلے 418 برسوں سے پنجاب کے لوگ مارچ کا آخری ہفتہ بڑی شان سے میلہ چراغاں کے طور پر مناتے چلے آ رہے ہیں کہ مادھو لال حسین (شال حسین لہوری) اپنے لازوال کلام کی وجہ سے پنجابیوں اور غیر پنجابیوں میں یکساں مقبول ہیں۔

مگر 169 سال قبل چراغاں کا میلہ نہیں منایا جاسکا کیونکہ 29 مارچ 1849ء کو 50 سال سے چل رہی آزاد سلطنت ’لاہور دربار‘ کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔ اُس دن انگریزوں نے نہ صرف پنجاب بشمول خیبر پختونخوا اور فاٹا پر قبضہ کیا بلکہ پلاسی کی لڑائی (1757ء)، کرناٹک جنگوں (63-1744ء)، پانی پت کی جنگ (1761ء)، بکسر کی لڑائی (1764ء)، ٹیپو کی شکست (1799ء) اور دلی پر قبضے (1803ء) سے نوآبادیاتی تسلط کی جو مہم جاری تھی وہ بھی مکمل ہوئی۔

لاہور میں میلہ چراغاں کا ایک منظر—سید کمیل حسن

لاہور میں میلہ چراغاں کا ایک منظر—سید کمیل حسن
جیسے ہندوؤں کو ساتھ ملانے کے لیے انگریزوں نے مغلوں اور سلاطین دہلی کو مسلمان بادشاہ کہا ویسے ہی پنجاب کے مسلمانوں اور پختونوں کو ساتھ ملانے کے لیے انگریزوں نے ’لاہور دربار‘ کو سکھوں کی حکومت قرار دے کر اپنے مفادات کو پورا کرنے کے جتن کیے۔
تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے درباری مصنفین سے کتابیں لکھوائی گئیں جن میں مغلوں اور لاہور دربار کے تمسخر اڑانے کے ساتھ ساتھ مذہبی و فرقہ وارانہ تعصبات کو ہوا دینا لازم تھا۔ سونے پر سہاگہ ہمارا فارسی و ترک زبانوں سے رشتہ تڑوا دیا گیا اور ہم اپنی تاریخ سے مکمل کٹ گئے۔
’لاہور دربار‘ کی ریاست 1799ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پنجاب کے مسلمانوں سے مل کر بنائی تھی، جس میں کشمیر، گلگت بلتستان، پشاور اور فاٹا شامل تھے۔ مہاراجہ کے دربار میں مسلمان، ہندو، سکھ بھی بیٹھتے تھے اور کشمیری، بلتی، پٹھان اور پنجابی بھی۔
یہی نہیں بلکہ لاہور دربار کی طرف سے انگریزوں کے خلاف لڑنے والوں میں پٹھان، کشمیری، پوربیے (پورب کے رہنے والے، یو پی سی پی کے لوگ)، پنجابی ہی نہیں بلکہ کچھ امریکی، فرانسیسی، اطالوی، حتیٰ کہ برٹش جنرل بھی شامل تھے۔ یاد رکھنے والی حقیقت تو یہ ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سکھ مثلوں (ریاستوں) کو ختم کرکے لاہوردربار کی بنیادیں رکھیں کہ کئی مذہبی جتھے بندیاں مہاراجہ کے خلاف تھیں، مگر انگریزوں اور ان کے ہمنواؤں نے لاہور دربار کو سکھ سرکار کہا۔
جب مہاراجہ نے لاہور میں حکومت بنائی تو یہ فرانسیسی لیڈر نپولین بونا پارٹ کے عروج کا زمانہ تھا اور دلّی پر تسلط کرچکے انگریزوں کو ڈر تھا کہ فتوحات کرتا نپولین ایران و سندھ سے پنجاب آسکتا ہے۔
1805ء میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انگریزوں سے برسرِ پیکار جسونت راؤ ہولکر اور جنرل لیک میں سمجھوتہ کروایا تو انگریزوں کو مہاراجہ کی طاقت کا اندازہ ہوگیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب سلطنت عثمانیہ (ترکوں) اور ایرانیوں سے نپولین کے سمجھوتوں نے انگریزوں کے ڈر کو یقین میں بدل دیا۔
1809ء میں لارڈ منٹو کی طرف سے چارلس میٹکاف نے لاہور دربار کے ساتھ معاہدہ کیا جس کی شقیں آج بھی لاہور دربار کی طاقت کے اعتراف کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ حیران نہ ہوں کیونکہ انگریز اس دور میں بھی افغانستان جانے کا راستہ مانگ رہے تھے مگر مہاراجہ نے انکار کردیا تھا۔
اسی دور میں جب روسیوں نے پنجاب پر حملے کے لیے افغانستان کے بادشاہ دوست محمد خان سے راستہ مانگا تو انہوں نے بھی ایسے ہی انکار کردیا تھا۔ جب تک مہاراجہ زندہ رہا اس وقت تک انگریز نہ تو افغانستان کی طرف بڑھ سکے اور نہ ہی سندھ، بلوچستان پر قابض ہوئے۔ اس دوران انگریزوں نے لاہور دربار کو ایک مسلمان دشمن حکومت قرار دینے کے لیے خوب پروپیگنڈا کیا اور ایک مذہب کے نام پر جنگ کو بھی تقویت دی۔

ایک پینٹنگ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی دربار کا عکس—وکی پیڈیا کامنز
1846ء میں فیصلہ کن جنگ دریائے ستلج کے کنارے ہوئی جس کے بعد انگریز لاہور دربار کو تو نہ توڑ سکے مگر کشمیر اور اس کے حاکم شیخ برادران کو بے دخل کرکے گلاب سنگھ کو کشمیر پر بطور نمائندہ لگا دیا گیا۔ درباری تاریخ لکھنے والے ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ مسلم اکثریتی کشمیر و بلتستان میں سکھوں کی حکومت کے دور میں مسلمان شیخ برادران حاکم رہے جبکہ انگریزوں کے دور میں گلاب سنگھ کو کشمیر کا حاکم بنایا گیا۔
1846ء سے 1849ء کے درمیان ہونے والی 3 بڑی جنگوں کا احوال بہت سی کتابوں میں درج ہے جس میں رائل بنگال آرمی میں ہندوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے یہ کہا گیا کہ انہیں اس علاقے کو فتح کرنے جانا ہے جہاں تاریخی طور پر ہمیشہ مسلمانوں کا قبضہ رہا ہے۔
ان جنگوں میں جن پورپی بٹالینوں نے رائل بنگال آرمی کو تج کرکے لاہور دربار کا ساتھ دیا لیکن ان کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا۔ دوست محمد خان کا بھائی سلطان محمد تو ساری عمر لاہور دربار کے ساتھ رہا جبکہ اس کا بیٹا 1848ء میں ہونے والے چیلیانوالہ (گجرات کے پاس) معرکے میں لاہور دربار کی فوج کے ساتھ ملا۔ یہی نہیں بلکہ ملتان کے مول راج کی انگریزوں کے خلاف بغاوت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ بلاامتیاز مذہب و قومیت بیرونی قبضوں کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہے۔
کنہیا لال کی کتاب تاریخِ لاہور کا سرورق
جن لوگوں نے دیبی پرشاد، گنیش داس، برائن ہیوگل، کنگھم، الیگزینڈر گارڈنر، اسٹین بیک، فقیر وحید الدین، خشونت سنگھ اور کرنل (ر) معین باری کی کتب پڑھیں ہیں وہ درباری مصنفین کے کرتبوں سے کما حقہ واقف ہیں۔ مگر پاکستان و بھارت میں بالعموم انگریزی پالیسی ہی تاحال جاری ہے اور لاہور دربار کے بارے میں پہلی سے 16ویں جماعت تک کی کسی بھی نصابی کتاب میں ایک بھی سبق شامل نہیں۔
29 مارچ کے دن جس ریاست کو انگریزوں نے فتح کیا اس کے خلاف نوآبادیاتی دور میں جج لطیف، کنہیا لال جیسوں سے کتب لکھوائی گئیں۔
اگر یہ تحریر آپ کو اپنی گمشدہ تاریخ پر نظر ڈالنے کی تحریک دے سکے تو اس کا مقصد پورا ہوجائے گا۔