تبدیل ہوتا پنجابی کلچر: پکے ڈیرے اورکچے لوگ

قوموں کی ثقافت ہی ان کا ورثہ ہوتی ہے اور زندہ اقوام اپنے ان انمول اثاثوں کو تا حیات دل سے لگائے رکھتی ہیں تاریخ کے طالب علم ہمشہ یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ جسے ان سے پہلے والوں نے ان تک اپنے بڑوں کی ثقافت کو من و عن پنچایا ہے اسی طرح وہ بھی ثقافت کی اس امانت کو اپنی آئندہ نسل تک منتقل کردیں اس کام میں ہمشہ پڑھے لکھے لوگوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اپنے کلچر کو کتابی شکل میں محفوظ کرتے رہیں ہیں تاکہ آنے والی پود اس سے مستفید ہو سکے اس طرح ان لکھاریوں کا نام بھی تاریخ کا حصہ بنتا آیا ہے لیکن اس حقیقت سے نفی ممکن نہیں کہ جسے تاریخ کو تابندہ رکھنے میں تعلیم یافتہ لکھاریوں نے اپنا کردار باخوبی نبھایا ہے اسی طرح کچھ ایسے بزرگ بھی تاریخ کے وارث ہے جو سینہ بہ سینہ اپنا ثقافتی ورثہ اپنی آئندہ نسل کو منتقل کرتے رہیں ہیں لیکن بذات خود ان کلچر کریٹر میں سے بہت کم لوگ تاریخ میں جگہ بنا پائے مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ ثقافت کو تاریخ میں محفوظ کرنے میں جتنا کردار ہسڑی رائٹرز کاہے اتنا ہی ان بزرگوں کا بھی ہے جو دیہاتوں میں چوپالوں اور چھنوں کی رونق کو دوبالا کرتے رہے ہیں اور باتوں باتوں میں اپنی ثقافت سے نوجوان نسل کو آگاہ کرتے رہیں ہیں ایسے ہی بزرگوں کی محفلوں میں ہم بچپن میں بٹھتے تو جب کبھی کسی اہم فیصلے کا وقت آتا تو بزرگ جن میں کچھ اب دنیا میں نہیں رہے اور کچھ کا سایہ ابھی تک ہمیں دنیا کی بے حسی،دوغلےپن،اور خود غرضی کی دوھوپ سے بچا رہا ہے اللہ یہ سایہ تاحیات ہم پر قائم رکھے یہ بزرگ ہمیشہ یہی کہتے” گل اک ای پکی تے کھڑی آکھوں اگوں اللہ دی سپرد ” ( ایک ہی بات کرو اور اس میں ردوبدل نہ کرو باقی اللہ حامی وناصر ہے ) مطلب ہمارے بزرگ اپنی سچ اور دوغلے پن سے پاک وراثتی روایت کا ہمیں درس دیتے تھے یہ سچے اور پکے لوگوں کی بٹھک ہوتی نہ کوئی ضد نہ کوئی جھوٹی آنا جو بھی اس محفل میں ہوتا سچا اور سچ کا ساتھ دینے والا پکا ساتھی ہوتا مگر یہاں یہ لوگ اپنا ڈیرہ لگا کر بٹھے ہوتے یہ کچی “چھن” ہوتی تھی تب پنجاب کے دہہاتوں میں کام کاج کے بعد مل بٹھنے کی جگہ یہ چھنیں ہی ہوتی تھی جو مٹی کے کچے ستونوں اور جنتر ( جو اک فصل ہے) کی چھت پر مشتمل ہوتی مطلب کہ ہر مٹریل کچا اور گھاس پھوس پر مشتمل ہوتا مگر یہاں بٹھنے والے لوگ بات کےپکے ہوتے تھے اور یہ پکے لوگ جس طرح کے پاکیزہ ماحول میں پلے بڑھے تھے بالکل اسی پاگیزگی کے ساتھ اپنے ورثے کو ہم بچوں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھےpanchat
اب بھی کبھی ماضی کے جھڑکوں میں جھانکے تو ایک دم اپنے گاؤں کے رسم رواج اور پاک صاف زندگی کی وہ فلم ذہین میں چلنا شروع ہوجاتی ہے جس میں نہ کوئی نسلی تعصب نہ فرقہ واریت اور نہ ہی اقلیت واکثریت کا کوئی جھگڑا کہی نظر آتا تھا ہر کوئی ہر کسی کے حالات سے بخوبی آگاہ ہوتاتھا اور معلومات کا سب سے بڑا زریعہ لوہار کی دوکان ہوتی تھی تب دہہاتوں میں ساری آبادی کسی نہ کسی طرح کھتی باری سے منسلک ہوتی تھی اور وہاہی بیجی کا کام لوہار کے بغیر ناممکن تھا لہٰذا کام کاج کی غرض سے لوہار کے پاس آنے والے بوڑھے اور جوان اپنے گھریلو حالات سے لےکر گاؤں کے سارے معاملات پر تبصرہ کرتے اور یوں ہر بندہ پورے گاؤں کے حالات سے آگاہ ہو جاتا یہ لوہار کی دوکان پورے پنڈ کا میڈیا ہوتا تھا جہاں حالات وقعات کا تجزیہ ہوتا۔ مگر وہ ناخواندہ تجزیہ نگار آج کے کوالیفائی تجزیہ نگاروں کی طرح دوسروں پر کیچڑ نہیں اچھالتے تھے بلکہ یہ غیر کی عزت کی بھی پاسداری کرتے تھے لیکن سیاست سے لے کر دوسرے اہم فیصلے انہی کچی چھنوں میں ہوتے تھے
imgrepresentational-image-village-panchayat
اب بدلتے زمانے اور جدت کی دور نے ہمارے دہہات کا طرز زندگی بھی بدل دیا ہے لوہار کی دوکان کی جگہ لوگوں نے معلومات کے لئے جدید میڈیا سے استفادہ حاصل کرلیا جس سے پوری دنیا کی بریکنگ نیوز تو مل گئی مگر ہمسائے کے حالات سے بے خبر ہوگئے، پہلے کہی دو بندے جھگڑتے تیسرا چھڑاتا تھا اب دو جھگڑتے ہیں تو تیسرا وڈیو بنانے میں مشغول ہو جاتا ہے، گاؤں کی کچی مسجدوں میں فرقہ واریت سے پاک پکے نمازیوں کی بھرمار ہوتی تھی مگر اس نام نہاد جدت نے مسجدوں کو بھی اپنی لپٹ میں لے لیا ہے اب دیہی علاقوں میں بھی بکثرت مسجدیں دکھائی دیتی ہیں مگر ان جدید طرز کی پکی مساجد میں بغض سے بھڑےکچے نمازی نظر آتے ہیں جہاں کبھی فرقہ واریت کا پتہ نہیں تھا وہاں وہابی سنی کا جھگڑا جبڑے کھولے بٹھا ہوا ہے،مل بٹھ کے حقہے کی محفل جمانےوالے اب ایک دوسرے سے کنی کتراتے ہیں کیا یہ جدت ہے ؟
اب ان کچی چھنوں کی جگہ پکے ڈیروں اور پکے لوگوں کی جگہ کچے لوگوں نے لے لی اورلوگ جو حق سچ کی با ت کرکے خود کو اللہ کی سپرد کرتے تھے اب پکے سولنگ لگے بازار اور پکی نالیاں بنوانے کے مطالبات کرتے نظر آرہے ہیں ٹھیک ہے کہ یہ سب اس دور کی ضرورت ہے مگر ضمیر کا سودا نالی کے بدلے ؟کیا یہ جدت ہے ؟کیا پکے سولنگ اور پکی نالی کے بدلے ہم سب کچے لوگ نہیں بن گے ؟۔یہ جو آج کل دہی علاقوں میں پکے ڈیرے بنا کر اور ڈیروں پے بڑے بڑے گیٹ لگا کر خود کو ڈیرے دار کہلاتے ہیں ایک منٹ کے لئے ہاں صرف ایک منٹ کے لئے اپنےدل پے ہاتھ رکھ کر سوچے کہ وہ ان کچی “چھنوں” میں بٹھ کر پنچائیت کرنے والوں کی طرح پکے اور کھڑے لوگ ہیں یا کہ پکے ڈیروں میں بٹھ کر پانی کے رخ کے ساتھ مٹی کے ڈھیر کی طرح بہاؤ کے ساتھ بہہ جانے والےکچے لوگ ؟ ، کیا ہر کوئی مفادات کی جنگ نہیں لڑ رہا ؟ ۔کیا یہ خود کے لئے اچھے وکیل اور دوسروں کے لئے بہترین جج نہیں بن چکے ۔کہا گئی دہہات کی وہ مہمان نوازی ؟۔کبھی کسی نے سوچا ہے ہم نے اس نام نہاد جدت کے پچھے اپنی زندگی کی ساری رعنائیاں کھو دی ہے پر یاد رکھے کاغذ کے پھولوں سے کبھی خوشبو نہیں آئی
ٹھیک ہے ترقی کرو جدت اپناو پر خدارا آپ جسے اپنے ڈیرے کا ہر سال بعد رنگ بدلتے ہیں ویسے چڑھتے سورج کو دیکھ کر اپنا رنگ تو نہ بدلے جناب عالی اپنے میں اور درودیوار میں فرق تو برقرار رکھیں۔اپنی اخلاقیات کو تو برقرار رکھیں اپنی سچی روایات کو تو نہ توڑیں اور صرف پکی نالی کے بدلے اپنے ضمیر کا فیصلہ تونہ کریں تاکہ اپنے بزرگوں کی طرح ہم بھی اپنی آئندہ نسل کو صاف ستھرا ورثہ دیں نہ کہ ہماری نسلیں ہمیں پکے ڈیروں میں رہنے والے کچے لوگوں کے نام سے یاد کیا کریں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔

source : https://newsline.com.pk/?p=2045