آزار محبت کا مداوا ہی کہاں ہے

 مارچ 2018 کو وزیراعظم پاکستان کے مشیر عرفان صدیقی سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔میرے ہمراہ ڈاکٹر زاہد حسین چغتائی بھی تھے۔ پاکستان میں ترویج ادب کے14 موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید ایم ڈی نیشنل بک فاونڈیشن نے اسلام آباد میں ’’شہر کتاب‘‘آباد کرکے کتاب دوستی کی تاریخ رقم کی ہے جو عرفان صدیقی کی علم و ادب دوستی اور ادیب نوازی کی قابل ستائش مثال ہے۔جو معاشرہ کتاب سے رشتہ توڑ لیتا ہے وہ جہالت سے ناطہ جوڑ لیتا ہے۔پاکستان میں اہل زور و زر شاداں اور اہل علم نالاں ہیںا ور یہی زوال ملت کی نشانی ہے۔آج بھی جو لوگ ادب کی خدمت کررہے ہیں وہ اہل درد ہیں آج کے کالم میں کچھ اہل دل اور اہل درد کا تذکرہ مقصود ہے۔دیار غیر میں چراغ سوزو گداز اور شمع عقل و آگہی جلانے والی صاحب عرفان و وجدان محترمہ فرخندہ رضوی خندہ نے اپنی دو تصانیف ارسال کیں۔وہ بقول علامہ اقبال لندن ’’فردوس کی مانند‘‘قریہ دلنوازو دلربا میں مقیم ہیں۔ان کا شعری مجموعہ بعنوان’’زیر لب خندہ‘‘اور ان کے افسانوں،تبصروں اور کالموں کا مجموعہ’’قلم خندہ‘‘نظر نواز ہوئے۔ان کی غزلیات میں عصر حاضر کی روح جھلکتی ہے۔سماجی و معاشرتی مسائل کے ذکر کے ساتھ ساتھ کرب تنہائی اور ضرب ہجرو ہجرت نمایاں ہے۔تخلص خندہ ہے لیکن دل سوختہ ہے۔
ان کی آزاد و نثری شاعری کی دوکتابیں’’سنو خموشی کی داستاں‘‘اور’’فاصلے ستارے ہیں‘‘دلداد گان ادب سے داد وصول کرچکی ہیں۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’’پھر وہ صبح کہاں‘‘معاشرتی مسائل کا عکاس ہے۔پیکر اخلاص اور انسانی رشتوں کے تقدس کی علم بردار کہتی ہیں۔ ؎
آتی رہے گی دور سے تم کو مری پکار
میں اپنے پیچھے اپنی صدا چھوڑ جاؤں گی
الزام مسیحا پہ لگاتی بھی میں کیسے
آزار محبت کا مداوا ہی کہاں ہے
یہ ’’آزار محبت‘‘ہی ہے جس درد کا درماں نہیں۔یہ زخم رستا رہتا ہے اور اس سے داستان محبت تحریر ہوتی ہے۔ڈاکٹر محمد وسیم انجم وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے چیئرمین ہیں۔اقبالیات میں طاق و نقد و نظر میں یگانہ۔تحقیق و تنقید میں ذوق عالمانہ ،گذشتہ سال ان کی کتاب ’’تابندہ لوگ‘‘شائع ہوئی ’’سنہرے لوگ‘‘بھی انہی کی تنصیف تابندہ پائندہ ہے۔ان کی تازہ تصنیف ’’شذرات انجم ‘‘ادبیات میں قابل قدر اضافہ ہے۔ اس کتاب کے باب اول کو ’’اقبالیات‘‘کے عنوان سے موسوم کیا گیا ہے جس میں چھ موضوعات پر سیر حاصل تحریر ہے۔باقی ابواب میں مضامین ،کالم ، تبصرے،تجزیئے،دیباچے،افسانچے اور احوال و خطوط ہیں۔کتاب دلچسپ اور معلومات افزاء ہے۔ڈاکٹر صاحب پوٹھوہار کے ادب اور ادیبوں سے بخوبی آشنا اور شناسا ہیں۔ادبی محفلوں اور مشاعروں میں شریک رہنے سے راولپنڈی کے مشاہیر ادبیات سے ذاتی مراسم کی بدولت خاکہ نگاری میں حقیقت نگاری عیاں و بیاں ہے۔گویا وہ ’’دبستان راولپنڈی‘‘ کے ادیب و نقیب ہیں۔نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد کی طرف سے ’’شہر کتاب‘‘جناح سپر مارکیٹ اسلام آباد میں لاہور کی طرز پر ادیبوں اور شاعروں کے لئے ٹی ہاوس کا افتتاح وزیراعظم پاکستان کے مشیر عرفان صدیقی نے کیا جس میں نامور ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی۔عائشہ مسعود نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ادا کئے۔فاخرہ بتول کی کتاب ’’پلکیں بھیگی بھیگی سے ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
یونہی یہ سلسلہ کیسے چلے گا
کہاں تک دیپ آندھی میں جلے گا
مومن خان مومن عظیم شاعر تھے۔ان کی یہ غزل اردو ادب کے سرکاتا ج ہے۔اس کا مشہور شعر ہے ؎
عمر تو ساری کئی عشق ُبتاں میں مومن
آخر عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
مرزا غالب جیسے بلند مرتبہ شاعر نے مومن خان مومن کے جس شعر پر اپنا سارا دیوان قربان کرنے کا اعلان کیا وہ یوں ہے ؎
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یہ تو قدیم اساتذہ کے عوامی وابدی اشعار کا ذکر تھا۔عصر حاضر میں بھی مجھے اپنے معاصرین اور احباب کے چند ایسے شعر یاد آرہے ہیں جو زبان زد خاص وعام ہیں۔سرور انبالوی کا شعر ہے ؎
انساں حرم کدے میں بھی انساں نہ بن سکا
پتھر صنم کدے میں گیا اور خدا ہوا
افضل منہاس کا شعر ہے ؎
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
وہ بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے
سید عارف کہتے ہیں ؎
تو قدو قامت سے شخصیت کا اندازہ نہ کر
جتنے اونچے پیڑ تھے اتنا گھنا سایہ نہ تھا
تنویر سیرا کہتا ہے ؎
اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
عباس تابش کا ایک شعر ؎
اس دن سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک روز کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
اور آخر میں نثار ناسک کا ایک یہ شعر ؎
ماں مجھے تو صورت موسیٰ بہادے نہر میں
قتل طفلاں کی منادی ہوچکی ہے شہر میں