’اوورسیز کمیشن پنجاب‘، مسائل کا حل یا ایک اور مذاق؟

blank

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے دعووں کے ساتھ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں باقاعدہ قانونی تحفظ کے ساتھ ملک کے پہلے صوبائی اوورسیز کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب کے سربراہ افضال بھٹی

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب کے سربراہ افضال بھٹی نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شکایات ای میل یا شکایات کے اندراج کے لیے بنائی گئی ویب سائٹ (http://opc.punjab.gov.pk) کے ذریعے کمیشن تک پہنچا سکیں گے اور یہ کمیشن کم سے کم وقت میں ان شکایات کے ازالے کو یقینی بنائے گا۔ اس حوالے سے اہم ملکوں میں فوکل پرسن بھی مقرر کیے جائیں گے جبکہ پنجاب میں ضلعی سطح پر اوورسیز کمیٹیاں بھی بنائی جا چکی ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل تو سابق گورنر چوہدری سرور بھی دعووں کے باوجود حل نہیں کروا سکے تھے تو یہ کمیشن کیسے حل کروا سکے گا، افضال بھٹی کا کہنا تھا کہ ایک تو تمام اہم محکموں کے سیکرٹریز بشمول انسپکٹر جنرل پولیس، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب اس کمیشن کے ممبر ہیں۔ دوسرا یہ کمیشن وزیر اعلیٰ پنجاب کی براہ راست نگرانی میں کام کر رہا ہے اور اس کمیشن کے پاس کمیشن سے تعاون نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی ہے، اس لیے امید ہے کہ یہ کمیشن ضرور کامیاب ہو گا۔

پاکستانی صوبہٴ پنجاب کے سابق گورنر چوہدری سرور بھی دعووں کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل نہیں کروا سکے تھےپاکستانی صوبہٴ پنجاب کے سابق گورنر چوہدری سرور بھی دعووں کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل نہیں کروا سکے تھے

اس کمیشن کے پہلے کمشنر افضال بھٹی ایک برٹش پاکستانی ہیں اور مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے پچھلے کئی سالوں سے پارٹی کے لیے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ان کی تقرری ایک اخباری اشتہار کے بعد قانونی طریقے سے ہوئی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ حکومت بدل جانے کی صورت میں اُن کا مستقبل کیا ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ اصل بات یہ نہیں کہ ان کا کیا ہوگا بلکہ یہ ہے کہ اس کمیشن کا مستقبل کیا ہو گا۔ ان کے مطابق وہ اس کمیشن کو سسٹم ڈریون بنا رہے ہیں اور شخصیات کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

دنیا بھر میں اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد آٹھ ملین سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے بعد سب سے زیادہ پاکستانی یورپ میں آباد ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ کمیشن غیر قانونی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل بھی حل کرے گا، افضال بھٹی نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کی مشکلات کے خاتمے کی کوششیں کی جائیں گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں یہ بات واضح کی کہ ان کے پاس پنجاب سے باہر واقع علاقوں سے تعلق رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا:’’ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر دوسرے صوبے بھی ایسے کمیشن بنا لیں۔‘‘

کیا یہ کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں انتہا پسندی کے رجحانات کی روک تھام کے لیے بھی کام کرے گا، ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان میں خوشحالی آئے گی، لوگوں کو کام کاج ملے گا تو وہ کسی دوسری طرف کیوں دیکھیں گے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بڑے بڑے مسائل میں پراپرٹی یا جائیداد کے مسائل، تجارتی جھگڑے اور پولیس سے متعلقہ شکایات شامل ہیں۔ صوبہٴ پنجاب میں قائم ہونے والا یہ نیا کمیشن آنے والے دنوں میں ایک ابلاغی مہم شروع کرنے والا ہے، جس میں بیرون ملک مقیم لوگوں کو کمیشن کے حوالے سے گائیڈ کیا جائے گا۔

افضال بھٹی ایک برٹش پاکستانی ہیں اور مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے پچھلے کئی سالوں سے پارٹی کے لیے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیںافضال بھٹی ایک برٹش پاکستانی ہیں اور مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے پچھلے کئی سالوں سے پارٹی کے لیے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں

پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے سابق صدر اور دبئی میں مقیم ایک پاکستانی بزنس مین ریاض فاروق ساہی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ صرف ایک صوبے کے لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ کمشنر کے عہدے پر میرٹ کے مطابق تقرری کا طریقہٴ کار اختیار کرنے کے باوجود مسلم لیگ نون ہی کے ایک رہنما کو اس منصب کا اہل سمجھا گیا ہے۔

ریاض فاروق ساہی کے بقول اس طرح کے کمیشن اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے بھی بنائے جاتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس کمیشن کا وائس چیئرمین خالد شاہین بٹ کو بنایا گیا ہے، جو امریکا میں رہتے ہیں اور شریف برادران کی طرح کشمیری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

ریاض فاروق ساہی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کا تعلق مقامی پاکستانی سفارت خانوں، بیرونی ملکوں میں موجود حالات اور پاکستان میں جاری غیر منصفانہ نظام سے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بچیوں کی پاکستانی اقدار کے مطابق تربیت اور شادی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اٹھارہ لاکھ پاکستانیوں کے بچوں کے لیے صرف سات پاکستانی سکول ہیں باقی پاکستانی بچے بھارتی یا دیگر سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔

ریاض فاروق ساہی نے کہا:’’ہم پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہمیں کسی نے بھی اس کمیشن کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی مشاورت سے اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں حقیقی پالیسی بنا کر اس پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

blank