الگ صوبے کی بحث

شیخ طارق رشید …. بحث و نظر
روزنامہ ”خبریں“ میں سرائیکی صوبے کی جاری بحث کے بعد میں نے بھی ضرورت محسوس کی کہ میں اپنا اور اپنی پارٹی کا موقف پیش کروں۔ اخبارات میں سرائیکی قوم پرست تنظیموں اور اس خطے کے بعض مفاد پرست سیاستدانوں کے بیانات پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے ہرمسئلے کا حل صوبوں کی مزید تقسیم میں مضمر ہے۔ ماضی میں پیپلزپارٹی نے سرائیکی صوبے کے نام پر جھوٹ کی سیاست کرکے جنوبی پنجاب میںقومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں لیکن اپنے پانچ سالہ دور میں پیپلزپارٹی نے اس خطے کو مکمل نظرانداز کیا جبکہ مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے خاتمے کیلئے نعروں کا سہارا نہیں لیا بلکہ خطے کی تعمیروترقی کیلئے عملی اقدامات بھی کررہی ہے۔ اس خطے کے کئی دوست نئے صوبوں کے حوالے سے پڑوسی ملک بھارت کی مثال دیتے ہیں کہ بھارت نے نئے صوبے بنادیئے یا پنجاب کی آبادی بہت زیادہ ہوگئی اس لیے اس کی تقسیم ہونی چاہیے، تو یہ کوئی جواز نہیں ہے ،خود بھارت میں اترپردیش کی آبادی پاکستانی پنجاب سے دگنا تقریباً 20 کروڑ ہے جبکہ مہاراشٹر اور بہار کی آبادی بھی پاکستانی پنجاب سے زیادہ ہے۔جہاں تک لسانی بنیادوں پرصوبہ بنانے کی بات ہے توجنوبی پنجاب میں بڑی تعداد میں پنجابی، بلوچ، مہاجر اور پختون قومیتیں بھی آباد ہیں۔ایسے میں لسانی بنیادوں پرنئے صوبے کا مطالبہ ملکی وحدت کیلئے خطرناک ہے۔ لسانی بنیاد پر بننے والے صوبے اگرترقی کرسکتے تو خیبرپختونخوا ترقی کی کافی منازل طے کرچکا ہوتا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں صوبہ سرحد کا نام پختونخوا رکھنے کا پرزور مطالبہ کیا تاکہ پشتو بولنے والے بھی ترقی کرسکیں۔ان کے اس مطالبے سے لسانی بنیاد پرصوبے کا نام تبدیل کردیا گیا لیکن پھربھی وہ ترقی نہ کرسکے۔جہاں تک انتظامی بنیادوں پر نیا صوبہ بنانے کی بات ہے تو یہ ایک جائز مطالبہ ہے اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اس مطالبے پرکافی غوروخوض بھی کیا ہے۔مسلم لیگ(ن)انتظامی بنیادوں پر الگ صوبہ بنانے کے مخالف نہیں ہے۔
موجودہ حکومت نے ہمیشہ عوامی خواہشات کا احترام کیا ہے۔ اس خطے کی سیاستدانوں اورعوام کی طرف سے جنوبی پنجاب کیلئے الگ سیکرٹریٹ کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جاتارہا ہے جسے مسلم لیگ(ن)کی حکومت اب حقیقت کا روپ دھارنے جارہی ہے۔اطلاعات کے بعد جنوبی پنجاب کیلئے سب سول سیکرٹریٹ کے قیام کی سمری وزیراعلیٰ پنجاب کوارسال کردی گئی ہے اور بجٹ کے بعد ملتان میں سب سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان متوقع ہے۔سب سیکرٹریٹ میں تقریبا تمام صوبائی محکموں کے دفاتر قائم ہوں گے اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے معاملات کی نگرانی کریں گے۔جنوبی پنجاب میں سب سیکرٹریٹ کے قیام سے ملتان ، مظفر گڑھ، خانیوال، وہاڑی، خانیوال، لودھراں، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، خانیوال، لیہ، راجن پور، رحیم یارخان سمیت دس سے زائد اضلاع کی عوام کو ریلیف ملے گا۔ میر اپنا اخیال ہے کہ جنوبی پنجاب میں سب سیکرٹریٹ کے قیام سے اس خطے کو جو ثمرات حاصل ہوں گے ،ممکن ہے کہ اس کے بعد الگ صوبے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔
اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مفاد پرست سیاستدان جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا ذمہ دار مسلم لیگ(ن)کو گردانتے ہیں جوکہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔جنوبی پنجاب کی تعمیروترقی ہمیشہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ دور حکومت میں جنوبی پنجاب میں مثالی ترقی ہوئی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جنوبی پنجاب میں انقلابی نوعیت کے اقدامات کئے۔ ملتان میں نوازشریف ایگریکلچر یونیورسٹی، انجینئرنگ یونیورسٹی ،خواتین یونیورسٹی قائم کی گئی، کڈنی سنٹر قائم کیا گیا، انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی توسیع کی گئی، شہبازشریف جنرل ہسپتال کو آپریشنل کیا گیا ،حال میں ہی نشتر میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ اسی طرح ملتان میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے نشترہسپتال کی طرز پر دوہزار بیڈز کے ایک بڑے ہسپتال کی تجویز زیرغور ہے۔ڈیرہ غازی خان میں غازی یونیورسٹی اور میڈیکل کالج بنایا گیا اور مظفرگڑھ میں طیب ایردوان ہسپتال بنایا گیا۔ بوریوالہ میں زرعی یونیورسٹی کے سب کیمپس، رحیم یارخان میں خواجہ فرید ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی تعمیر جاری ہے۔اس خطے کے پسماندہ اضلاع میں جدید معیار کے دانش سکول قائم کیے گئے تاکہ یہاں کے غریب گھرانوں کے بچے بھی لاہور کے ایچی سن کالج جیسے معیار کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور سرائیکی صوبے کا نعرہ لگانے والے مجھے بتائیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دوراقتدار میں جنوبی پنجاب میں کتنی یونیورسٹیوں کے قیام کی منظوری دی؟ کتنی وفاقی یو نیورسٹیوں، میڈیکل کالجز ،انجینئرنگ اور زرعی یونیورسٹیز کے مکمل کیمپس قائم کئے؟ حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی صرف سرائیکی کارڈ سے کھیل رہی تھی اوراسے اس خطے کی تعمیروترقی سے کوئی غرض نہیں تھا۔
موجودہ حکومت نے مواصلات کی ترقی کو اولین ترجیح دی ہے۔ جنوبی پنجاب میں نئی شاہرات تعمیر ہورہی ہیں۔ سی پیک منصوبے کے تحت ملتان سکھر موٹروے کا منصوبہ شروع ہے۔ ملتان سے فیصل آباد موٹروے بھی تکمیل کے قریب ہے۔ملتان میں میٹروبس سروس کا آغاز اس خطے کی عوام کیلئے وزیراعظم نوازشریف کا شاندار تحفہ ہے۔ ملتان میٹرو بس سروس نے جہاں 50لاکھ آبادی کے حامل دنیا کے قدیم ترین ملتان شہر کونئی شناخت دی ہے وہاں جنوبی پنجاب کے عوام کو اعلیٰ معیار کی بین الاقوامی سفری سہولتیں بھی مہیا کی ہیں۔ اگلے ماہ ملتان میں فیڈربسوں کا بھی آغاز ہوجائے گا جس سے شہریوں کو مزید بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گے۔ میٹروبس منصوبے کے ناقدین کیلئے میرا یہ جواب ہے کہ ماس ٹرانزٹ سسٹم آج دنیا کے تمام بڑے شہروں کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی میٹروبس کو جنگلہ بس کہنے والے اب خود پشاور اور کراچی میں جنگلہ بس بنانے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو بھی دیر سے سمجھ میں آئی ہے کہ میٹرو بس پراجیکٹ جیسے منصوبے حکمرانوں کے نہیں بلکہ عوام کے مفاد کے منصوبے ہیں۔
پینے کا صاف پانی ہر شہری کا حق ہے اور جنوبی پنجاب کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں میں سینکڑوں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے جارہے ہیں۔ڈیرہ غازی خان میں فورٹ منرو کو جنوبی پنجاب کا سیاحتی مقام بنانے کیلئے فورٹ منرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اس اقدام سے علاقے کی ترقی کے ساتھ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور عوام کو بہترین سہولتیں بھی میسر آئیں گی۔ اسی طرح بہاولپور میں چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔گزشتہ سال کے بجٹ میں موجودہ حکومت نے جنوبی پنجاب کی تعمیروترقی کیلئے صوبے کے کل بجٹ کا 36فیصد حصہ مختص کیا جو جنوبی پنجاب کے حقوق کے کھوکھلے نعرے لگانے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ جہاں تک الگ صوبے کی بحث کا تعلق ہے تو میں اس خطے کے سیاستدانوں اور سرائیکی تنظیموں سے درخواست کروں گا کہ وہ سیاسی مفادات اور لسانیت کے نعروں سے ہٹ کر الگ صوبے کے قیام کیلئے جدوجہد کریں اور خطے کی تعمیروترقی کیلئے حکومت کا ساتھ دیں۔انتظامی بنیادوں پر آئینی طریقہ کار اور قومی اتفاق رائے سے نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔وقت آنے پر صوبہ ضرور بنے گا۔
(مسلم لیگ (ن)کے سینئررہنما
اور سابق ایم این اے ہیں)

Source, http://dailykhabrain.com.pk/2017/05/15/45285/