اردو میڈیا اور سرائیکیالائزیشن آف پنجاب اینڈ پنجابی

blank

تحریر : نذیر کہوٹ

ٹھیک کہتا تھا میں کہ اردو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا روز اول سے پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرتوں اور تعصبا ت کو نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا میں پھیلانے میں بنیادی اور کلیدی کردار اداکرنے والے ایک ہتھیار کے طور پر استمال ہو رہا ہے ۔اور پنجاب کی سا لمیت جو در حقیقت پاکستان کی سا لمیت ہے پر کاری ضربیں لگا رہا ہے ۔اس کا حالیہ ثبوت اردو کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے پر بروز اتوار مورخہ 27 جون کو شائع کیاجانے والا جناب رئوف کلاسرا کا ایک کالم ہے جس کا عنوان ہے۔’’پورس کے وفادار ہاتھی کی بھولی بسری داستان‘‘۔پورس پر لکھا گیا یہ کالم ہے زبردست مگر حسب معمول نفرت کے سرائیکی زہر اور تعصب میں بجھا ہوا پنجاب اور پنجابی کے وجود پر ایک اور جان لیوا وار۔جسے کوئی عام پرھنے والاباآسانی نہیںسمجھ سکتا۔یہ وردات انتہائی باریک بینی سے کی گئی ہے جو پنجاب اور پنجابیوں کے حوالے سے سرائیکیوں کا ایک گھنائونا طریقہ واردات ہے۔ سرائیکیوں کے اس گھنائونے طریقہ واردات کے لئے میں نے ایک اصطلاح وضع کی ہے اور وہ ہے Serakialisation of Punjab and Punjabi پنجاب اور پنجابی کی سرائیکیالاےزیشن ۔یعنی ہر وہ چیز جس کا تعلق پنجاب یا پنجابی زبان،ادب ،ثقافت،تہذیب،تاریخ جغرافیا،شناخت سے ہو اسے سرائیکی کے نام پر اغوا کر لو۔اس پر سرائیکی کا ٹھپہ لگائو دوچار جھوٹے اور خود ساختہ تاریخی حوالے گھڑ کر ساتھ نتھی کرو اور بس ہوگیا کام اور چلتے بنو۔درحقیقت یہ گندا دھندا ہو بھی اسی طرح سے رہا ہے ۔یعنی پنجابی زبان ،ادب، ثقافت ،تاریخ جو بھی شے ہاتھ لگے سرائیکی کے نام پر اس کا حلیہ مسخ کر ڈالو۔اور نام نہاد سرائیکی کی ادبی،لسانی ،ثقافتی اور جغرافیائی سلطنت کو وسعت دیتے چلو۔ جس کا 1960 سے پہلے نام و نشان اور وجود تک نہ تھا۔اس سارے عرصے میں فراڈ بازی کے ذریعے سرائیکی کا جواز اور وجود گھڑنے کے لئے بہت سارا مواد گھڑ کر اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ پنجاب اور پنجابی سے انتہائی گھناونی نفرت اور جھوٹ کی بنیاد پر پر سرائیکی کی ساری عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اب یہ فراڈ اس حد تک پھیل چکا ہے کہ سرائیکی یہ داعوی بھی کرنے لگ پڑے ہیں کہ شاہ حسین لاہوری سرائیکی شاعر ہے اور پنجاب اور پنجابی کا تو سرے سے کوئی وجودہی نہیں۔بالکل اسی طرح میرا بھی دعوی ہے کہ سرائیکی کا کوئی وجود نہیں یہ جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں،پیروں اور سرداروں کے مفادات اور سٹیٹس کو کی حفاظت کے لئے محض ایک ہتھیار ہے۔خواجہ غلام فرید نے تو کبھی بزبان خود نہ کہا وہ سرائیکی تھے۔ ظاہر ہے کہ ان پر بھی سرائیکیالائیزیشن کا وار کیاگیا۔
اب ایسی صور ت میں جب اگلے آپ کا وجود ہی مٹانے کے درپے ہو جائیں تو پھر کوئی کب تک خاموش رہے۔ کوئی روک ٹوک بھی نہیں کیوں کہ آگے سے کسی نے روکنا تو ہے نہیں اس لئے کہ پنجاب میں ہر قسم کے جانور رہتے ہیں اگر کوئی نہیں رہتا تو پنجابی نہیں رہتا۔اگر آج سے پچاس سال پہلے اس نام نہاد ااور بدنا م زمانہ پنجابی سٹیبلشمنٹ نے پنجابی کو پنجابی کی تعلیمی ،سرکاری دفتری اور عدالتی زبان بنا دیا ہوتا تو آج پنجاب میں اردو اورسرائیکی کانام لینے والا کوئی نہ ہوتا۔
اس دفعہ سرائیکیا لائزیشن کے نام پرنشانہ اور شکار کوئی اور نہیں پنجاب کا بہادر سپوت راجہ پور س ہوا ہے ۔نام نہاد سرائیکی جنا ب رئوف کلاسرا نے راجہ پورس کی شناخت وضع کرنے کے لئے یہ ایک لفظ برتاپوٹھوہار کچھ یوں ۔’’پوٹھوہار کے ایک ثبوت مہاراجہ پورس‘‘۔چلئے جناب کام ہو گیا۔واردت ہو گئی۔اب آپ کہیں گے وہ کیسے جناب توپھر سنئے جناب۔یہ بات اسقدر سادہ اور بے ضرر نہیں ہے۔جسقدر نظر آ رہی ہے ۔یا اسے اسے بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہاں اس ایک لفظ پوٹھوہار نے ایک پوری قوم کا ایک وسیع علاقہ،ایک قدآور ہیرو اغوا کر کے ایک زبان،ایک تہذیب ،ایک ثقافت اور ایک شناخت،ایک دھرتی میں دراڑ ڈالنے۔اس کی پیتھ میں چھرا گھونپنے یا اسے تقسیم کرنے کی سوچی سمجھی اور دانستہ واردات کرنےکی کوشش کی ہے ۔اب آپ پوچھیں گے وہ کیسے تو اس کا جواب ہے کہ اصل بات وہ نہیں جو کالم نگار نے روائتی بد نیتی کے تحت کی۔ ا صل بات وہ تھی جو بد نیتی کے تحت نہیں کی گئی اور چھپائی گئی ۔اصل الفاظ یہ نہیں تھے ’’پوٹھوہار کے ایک سپوت مہاراجہ پورس‘‘اصل الفاظ جو تھے یہ ہونا چاہئے تھے ’’پنجاب کے ایک سپوت مہا راجہ پورس‘‘۔راجہ پورس پنجاب کا بہادر سپوت تھا اسے پنجابی سے پوٹھوہاری بنا کر ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔پوٹھوہارکو پنجاب سے الگ کرنے اور چھیننے کی مزموم کوشش کی گئی۔پنجاب سے پنجاب ہی کے ایک ہیرو کو چھیننے کی شرمناک کوشش کی گئی اسے پنجاب سے چھین کر پنجاب کے ہی ایک علاقے کی شناخت دے دیناوہ طریقہ واردات ہے جو سرائیکیوں کا وطیرہ ہے ۔دیکھا آپ نے کالم نگار کے قلم اور نیت کی صفائی کیسے کام دکھاگئی۔اسے میںکہتا ہوں سرائیکیالاےزیشن آف پنجاب اینڈ پنجابی۔بدنیتی ،تعصب تاریخ اور حقائق کو مسخ کرنے کی منفی کوشش۔یہ وہ ہتھکنڈے ہیں جو سرائیکی تحریک کے علمبردار 1960 سے پنجاب اور پنجابی سے تعلق رکھنے والی ہر شے کا حلیہ مسخ کرنے اور اس کا نام و نشان مٹانے کے لئے استمال کر رہے ہیں۔پنجاب کے ایک قدیم ہیرو کی قومی شناخت تبد یل کرنے کی ایک مزمو م کوشش۔ایک اور پنجابی شناخت سرائیکیالائیزیشن کا شکار ہوئی۔پنجاب کے اندر پنجابی،پوٹھوہاری اور سرائیکی کا ڈھول بجانے والے آگ سے کھیل رہے ہیں۔
جناب کلاسر ا کے ایک لفظ کے ہیر پھیر سے اب مہاراجہ پورس پنجابی نہیں رہا بلکہ پوٹھوہاری ہوچکا۔مقصد یہی تھا کہ اسے پنجابی نہ رہنے دیا جائے۔چھین لیا جائے۔جنگ میں شائع ہونے والے لاکھوں لوگوں نے اس کالم کو پڑھا ہوگا۔اور انٹرنیٹ پر بھی۔میں اسے پڑھنے کے بعد بیٹھا صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ میں ان لاکھوں لوگوں کے معصوم اذہان تک جوکالم نگار نے انتہائی مکاری سے ایک لفظ کے ہیر پھیر سے برین واش کر دیئے ۔ یہ سچ کیسے پہنچائوں کہ مہاراجہ پورس پوٹھوہاری نہیں پنجابی تھا۔اور پوٹھوہار پنجاب سے الگ کوئی خطہ نہیں پنجاب ہی ہے۔ اور پنجاب میں پوٹھاری ،پنجابی اور سرائیکی کو تفرقہ ڈالنے والے پنجاب ہی کے نہیں پاکستان کے وجود کے بھی دشمن ہیں۔مگر میں بے بس اور بے وسیلہ ہوں کہ نہ میری ز بان پنجابی میں کوئی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہے۔نہ جنگ اور کوئی اور اردو اخبار میری اس تحریر کواپنے صفحات پر جگہ دے گا۔افسوس صد افسوس آج اگر پنجابی پرنٹ میڈیا ہوتا جنگ کی طرح کا کوئی بڑا پنجابی اخبار بھی پنجاب سے شائع ہو رہا ہوتا توتصویر کا دوسر ارخ بھی پنجاب کے عوام اور سادی دنیا تک پہنچتا۔میں بہت عرصے سے پنجاب اور پنجابی کے خلاف اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ تماشا دیکھ رہا ہوں مگر اب یہ کھلا جھوٹ میری برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔مزید خاموش رہنا ممکن نہیں۔
اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو سرائیکی کے ہتھیار سے پنجاب اور پنجابی کا وجود صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلا ہے۔مگر میں اپنے قلم کی طاقت سے اس کے خلاف مزاحمت تو کر سکتا ہوں۔راجہ پورس کے حوالے سے اصل حقیقت کیا تھی جسے کالم نگار نے مسخ کر کے بیان کیا۔
تاریخ اور ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہاں چند حقائق کا بیان ضروری ہےکہ:
منڈی بہائوالدین کا راجہ پورس پنجاب کا ایک بہادر سپوت تھا۔اس کی ریاست جہلم اور چناب کے درمیانی علاقہ پر پھیلی تھی۔جسے دو آبہ چہنب بھی کہا جاتا ہے۔اوریہ علاقہ آج کا سینٹرل پنجاب بھی ہے۔ تاریخ کے اُسی دور میں پورس ایک ہمعصر ایک اور پنجابی راجہ جس کا نام ’راجہ امبی‘تھا ٹیکسلا کا حکمران تھا۔جس نے جنگ کرنے کی بجائے جنرل نیازی( ڈھاکہ فیم ) کی طرح سکندر اعظم کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاایک علاقے کے ایک ہی وقت میں دو راجہ یا بادشاہ ہو سکتے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر راجہ پورس پوٹھوہاری تھا تو راجہ امبی کون تھا۔ تو پھر ان دونوں کی ریاستوں کی حدود کیا تھیں۔کیا سینٹرل پنجاب جسے جہلم چناب دوآبہ بھی کہا جاتا ہے پوٹھوہاری ہے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ معزز کالم نگارسینٹرل پنجاب کا ایک علاقہ چھین کر پوٹھوہاری علاقے میں شامل کرناچاہ رہے ہوں۔یا پوٹھوہاریوں کو اپنا ایک ہیرو فراہم کرنے اور پنجابیوں کو اپنے ایک ہیرو سے محروم کرنے کا کھیل کھیل رہے ہوں ۔سرائیکیالائزیشن ؟
سرائیکیوں کا یہ عجیب تضاد ہے کہ ایک طرف تو وہ ایک مقامی رنجیت سنگھ کو حملہ آور قرارد دیتے ہوں اور ایک غیر مقامی ایک غاصب افغان مظفر علی خاں کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہوں اور دسری طرف وہ ایک اور مقامی راجہ پورس کوپوٹھوہار کے حوالے کر کے اس کی شناخت تبدیل کر کے اس کی بہادری کے گیت گانے پر مجبور ہو جاتے ہوں۔پھر وہی ہی سرائیکالائیز یشن ۔
پنجابی ،سندھی ،بلوچی اور پشتوکے ساتھ ساتھ کالم نگا ر نے چند ماہ پہلے سرائیکی کو قومی زبان بنوانے کے لئے جنگ کے فرنٹ پیج پر اور نیوز کے بیک پیچ پر پانچ پانچ کالمی خبریں بھی لگاتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے کندھے پر رکھ کر سرائیکی توپ بھی چلانے کی کوشش کرتے ہوں۔کالم نگار نے سرائیکی کو قومی زبان بنانے کے لئے ایک شارٹ کٹ تلاش کیا اور نواب یوسف تالپور اور صدر زردای کو لڑانے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہے ۔یہ تو بھلا ہو ا ۱ٹھاویں ترمیم کا مسودہ تیار کرنے والی اس آئینی کمیٹی کے اراکین اور اس کے سربراہ رضا ربانی کا جنہوں نے سندھی پنجابی اورپشتو کے ساتھ ساتھ غیر فطری طور پر جوڑی جانے والی نام نہاد مادری زبانوں جو کہ درحقیقت’’ قصباتی زبانیں‘‘ ہیں کو پاکستان کی قومی زبانیں بنوانے کی سرائیکی اراکین اسمبلی کو سازش ناکام بنا دی۔تمام سرائیکیوں کی طرح کالم نگار اپنے کالموں میں اکثر جوش جذبات میں پنجاب کی دھرتی کو اپنی سرائیکی دھرتی کہہ کر پنجاب کے خلاف اظہار نفرت کرتے ہی رہتے ہیں۔جسے وہ اپنی سرائیکی دھرتی کہتے ہیں وہ توپنچ دریائیوں یا پنجابیوں کی دھرتی ماں ہے ۔ہم بھلا اس کے کسی کو ٹکڑے کیسے کرنے دیں گے جہاں جہاں اس دھرتی پر چانچ دریا بہتے ہیں وہ تو پنجاب ہی کہلائے گا۔اس کے رہنے والے والے پنج دریائی۔یہ الگ بات ہے کہ اپنی ہی دھرتی ماں پر پنجابیوںکو سرائیکی پنج دریائی کہکر گالی بھی دیںاور پھر یہ بھی توقع رکھیں کہ ہم اپنی دھرتی ماں کے ٹکڑے کرکے ایک ٹکڑے کا نام سرائیکستان رکھ کر انہیں تحفے میں دے دیں گے۔
راجہ پورس کو پوٹھوہاری قرار دینے میں کالم نگار کی بدنیتی کو دخل ہے۔ورنہ اسے پنجابی بھی لکھا جا سکتا تھا۔لیکن من کے اندر پنجاب اور پنجابی کے خلاف نفرت اور اندھے تعصب کو کیسے چھپایا جا سکتا تھا۔یہان تو ہر سرائیکی کا ایمان اور مشن ہی یہی ہے کہ پنجاب اور پنجابی کا نام و نشان مٹا ددو۔سرائیکی کے نزدیک تو پنجابی کوئی زبان نہیں پنجاب کوئی دھرتی نہیں پنجابی کوئی کوئی قوم نہیں۔مگر یہ خود ایک زبان،قوم اور تہذیب اور ورشے کے مالک بن بیٹھے ہیں وہ کیسے۔ وہ کیسے ۔فارمولا جناب فارمولا۔۔۔ سرائیکیالائیزیشن آف پنجاب اینڈ پنجابی کا ہتھکنڈا۔ پنجاب پنجابیوں کی دھرتی ماں ہے۔پنجاب میں رہنے والے سب پنجابی ہیں۔یہاں کسی سرائیکی کا کوئی وجود نہیں۔نہ ہم اسے مانتے ہیں۔
جناب رؤف کلاسرا کا کالم سرائیکوں کی اسی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے جو نام نہاد سرائیکیوں نے 1960 سے جنوبی پنجاب میں ایک نفرت انگیر اور شرمناک مہم کے طور پر اردو میڈیا کے ذریعے شروع کر رکھی ہے۔یہ آمر ضیاء الحق ہی تھا جس نے بھٹو کو پھانسی لگانے کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم بھی بنوائی اور سرائیکی کو اکادمی ادبیات میں پنجابی الگ زبان کا درجہ دلوا کر اس کے لئے ایوارڈ بھی رکھ دیا۔ اور پنجاب اور پنجابیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔تمام آمروں نے پنجاب اور پنجابی کو تباہ و برباد کیا۔ایک نے تو ہمارے دریا ہی بیچ ڈالے ۔
جناب رؤف کلاسر اکا کالم اس حیقت کا بھی واضح ثبوت ہے کہ اردو اخبارات پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفرتوں اور تعصابات کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہیں۔جنگ کے ادارتی صفحے کے ستر فیصڈ کالم نگا ر اینٹی پنجاب اور اینٹی پنجابی ہیں۔اور وہ پنجاب اور پنجابیوں کو اپنے نفرتوں کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے ۔ایسی آزادی اظہار جو ملک کے وجود کے لئے خطرہ بن چکی ہے اور جو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نفرتوں اور خانہ جنگی کو ہوا دے رہی ہے اور جو پنجاب کی سالمیت کی دشمن بن چکی ہے اسے لگام دینے کی ضرورت ہے ۔اردو پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پنجاب ور پنجابی کا استحصال کر رہا ہے۔یہ ایک حیران کن مماثلت ہے کہ لاہور پنجابی زبان کا قبرستان بن چکا ہے جب کہ کراچی سندھی زبان کا قبرستان بن چکا ہے۔کراچی سندھی زبان سے اور لاہور پنجابی زبان سے چھن چکا ہے۔پنجابی اور سندھ کے خلاف ان جرائم کاارتکاب کس نے کیا پوچھنے بتانے کی ضروت نہیں۔پنجابیوں اور سندھیوں کے بہت سارے دکھ سانجھے ہیں معلوم نہیں انھیں ا س کا کب احساس ہوگا۔
بعض اردو خبارات کاپنجاب اور پنجابی کے خلاف نفر انگیز مواد چھاپنا گویا پیشہ اور ایک عدات سی بن گئی ہے۔پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف نفر ت انگیز مواد چھاپنا اور وہ بھی بغیر کسی تصدیق اور تسلی کے انکا وطیرہ اور پیشہ بن چکا ہے۔پنجاب اور پنجابی سرائیکیالائزیشن کی اس مکروہ مہم اور اس طوفان بد تمیزی میں سرائیکوں نے اردو میڈیا کے ذریعے پنجابی زبان و ادب ،ثقافت ار تاریخ سے متعلقہ ہر شے کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے ۔راجہ پورس سے لے کر رائے احمد خان کھرل تک۔بابا فرید سے لے کر خواجہ غلام فرید تک،ڈیرہ غازی خان سے لے کر ہیر سیال کے جھنگ تک،پنجاب کے لوک گیتوں سے لے کر لوک فنکاروںتک غرض پنجاب اور پنجابی سے متعلق ہر شے سرائیکیالائیزشن کا شکار ہو کر مسخ ،تباہ ،برباد،اغوا ہو چکی ہے ۔اور اس پر سرائیکی کا لیبل ،ٹھپہ یا مہر لگائی جا چکی ہے۔ سرائیکیا لائزیشن کے شیطانی فارمولے کی آڑ میں کسی قوم کے خلاف تاریخ انسانی میں ادبی ،فکری ،نظریاتی ،نسلی،لسانی ،ثقافتی ، جغرافیائی ،تاریخی اور دانشورانہ حوالے سے ہونے والے اس سب سے بڑے جھوٹ ، اغواء ،فراڈ اور دھوکے کا نام سرائیکی ہے۔پنجاب اور پنجابی کا سب کچھ چھین کر اس پر سرائیکی کا ٹھپہ لگانے کا نام سرائیکیا لائیزیشن ہے ۔نفرت اورتعصب پر مبنی یہ مکروہ مہم پنجاب ہی میں نہیں بلکہ پاکستان او رعالمی سطح پر اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے جاری ہے۔اور اب سرائیکستان کی خبریں بھارتی میڈیا میں بھی بڑی جگہ پا رہی ہیں۔پنجاب کے ٹکڑے کرنے کے لئے اس کے دشمن اردو پرنٹ اور ا الیکٹرانک میڈیا کے پلیٹ پر متحد ہو چکے ہیں اسے بڑی مہارت سے استمال کر رہے ہیں۔اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پنجاب اور پنجابی کو تباہ کرنے لئے سرائیکیوں کے ہاتھ میں سب سے بڑا او ر سب سے خوفناک ہتھیار ہے۔ نام نہاد سرائیکی یہ کڑوا سچ برداشت کرنے کو تیار نہیں کہ سرائیکی پنجابی ہے۔یہ پنجابی زبان کا ایک سباتی لہجہ ہے ۔ملتانی،ریاستی اور ڈیروی کا نام سرائیکی رکھ کر پنجابی زبان کے اغوا کا ڈرامہ نہیں چلے گا۔جنوبی پنجاب میں اگر سرئیکی رہتے ہیں تو وہاں کے پنجابی طالبا ن کو ابھی تک سرائیکیا لائیز کیوں نہیں کیا گیا۔انہیں اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سرائیکی خود سرائیکی طالبان کیوں نہیں کہتے؟ 
پنجابیوں کے اب پرزور اور پر اثر طریقے سے باآواز بلند بولنے کا وقت آ گیا ہے ۔پنجاب کی خاموش اکثریت کو اب خاموشی کا قفل توڑناہوگا۔اور ہمیں دنیا کو باآواز بلند یہ پیغام دینا ہوگا کہ اگر پنجاب کو تقسیم کرنے کی کوئی مزموم کوشش کی گئی خواہ یہ تقسیم انتظامی ہویا لسانی تو پنجابی اس کی شدید مزاحمت کریں گے ۔ہمارے نزدیک وہ تمام لوگ جو پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ پنجاب کے غداراور پاکستان کے دشمن ہیں اورغدارکسی بھی طرح کے رحم کامستحق نہیں ہوتے ۔ہم پنجابی نہ پنجاب کو تقسیم ہونے دیں گے اور نہ ہی سندھ،بلوچستان اور خیبر پختوں خواہ کو۔ہمیں معلوم ہے کہ بلکاناےئزیشن کے ذریعے خانہ جنگی کروا کر سامراجی منصوبے کے تحت پاکستان توڑنے کا منصوبہ زیر عمل ہے۔جب تک سرائیکی صوبہ بنوا کرپنجاب کو نہیں توڑا جائے گا اس وقت تک کراچی کو الگ ملک نہیں بنایا جا سکتا اور پاکستان کو توڑا نہیں جا سکتا۔بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک اور پنجاب کے بلوچوں کی جانب سے الگ صوبے کا مطالبہ سب کھیل سمجھ میں آتا ہے۔پنجاب اسمبلی میں الگ صوبے کے لئے سب سے ذیادہ شور اور اچھل کود ہمارے جنوبی پنجاب کے بلوچ بھائی ہی مچاتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پنجاب میں موجود اردو اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو یہ واضح پیغام بھیجا جائے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔انہیں پنجاب کی سالمیت اور وحدت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ان کی حرکتوں سے پنجاب میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ سکتا ہے لہذا وہ یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کریں اور پنجاب سے ہمیشہ کے لئے جہاں نکل جائیں پنجاب اور پنجابیوں کو اب اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کہ ضرورت نہیں ہے۔کیوں وہ پنجاب کی سالمیت سے کھیل رہے ہیں۔انہیں یہ معلوم ہوناچاہیئے کہ پنجاب ہماری دھرتی ماں ہے اور یہ ہمارے لئے پاکستان سے ذیادہ اہم ہے ۔وہ پاکستان جو میری ماں بولی کا حق غصب کئے بیٹھا ہے مجھے اس سے کوئی ہمدردی نہیں۔اور وہ پنجابی جو پنجاب میں میری ماں بولی کا راستہ اردو سے روکے بیٹھے ہیں اور اس کاآئینی ،قانونی اور پیدائشی حق غصب کئے بیٹھے ہیں اور اس کا قتل عام کر رہے ہیں مجھے ان شیطانوں کا وجود اپنی دھرتی پر گوارا نہیں۔
اردو پرنٹ اور االیکٹرانک میڈیا سرگرمیاں پنجاب کے وجود کے لئے سنگین خطرے کا باعث بن چکی ہیں۔ پنجاب میں اب پنجابی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا لانے کی ضروت ہے۔اس کے لئے پنجابی کو پنجاب میں زرعیہ تعلیم کے طور پر نافذ کرنے اور پنجابی سرمایہ داروں کوپنجابی زبان کے اخبار اور ٹی وی چینل کھولنے کے لئے میدان عمل میں آناہوگا۔سرائیکی بڑی خاموشی اور ذہانت سے اردو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کواپنے مذموم مقاصد کے لئے استمال کر رہے ہیں۔ پنجاب سے پنجابی زبان کے صفائے کی وجہ بننے والے عوامل کا صفائیا کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں پنجاب میں بعض چیزوں کی غیر فطری حالت کو ختم کر کے انہیں اپنی اصلی اور فطری حالت میں واپس لانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو بچانے کے لئے پنجاب کو متحد رکھنا اور یہان پنجابی کو زرعیہ تعلیم کی زبان کے طور پر نافذ کرنا اور پنجابی،سندھی ،بلوچی ا ور پشتو کو قومی زبانیں قرار دینا ضرور ی ہے پنجاب میںپنجابی زبان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت ہے۔آج دنیا تک یہ پیغام پہنچنا چاہیئے کہ پنجاب کو لسانی یا انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کوی کوشش کی گئی تو پاکستان نہیں رہے گا۔جن لوگوں نے اپنے گلے میں سرائیکی کا ڈھول رکھا ہے۔ اور جو بدنیتی کے تخت لہور کی غلامی کا ڈھنڈھور ا پیٹتے ہیں مگر وہ خودجنوبی پنجاب میں رہنے والے پنجابیوں،مہاجروں،اردوبولنے والوں ،ریاستیوں،بلوچوں اور پٹھانوں کے لئے تخت ملتان کی غلامی کا طوق ڈالنے کے خواب دیکھتے ہیں۔اور انھیں وہاں سے بے دخل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔جنوبی پنجاب کے عوام غیرسرائیکی عوام جن کی وہاں اکثریت ہے وہ سرا ئیکی جاگیردار،پیر اور سردار کی غلامی میں کیوں جائیں۔
کیا عظیم پورس سرائیکیوں ہاتھوں اغواہو کر ختم ہو گیا۔ کیا پورس اب پنجابی نہیں رہا۔کیا سرائیکیوں نے پورس پنجابی کو چھین کر موت کے گھاٹ اتاردیا ہے۔یہ ایک انتہائی المناک اور سنگین صورتحال ہے۔پنجاب پر ہومر کی ٹریجڈی پنجاب کی سرائیکالیاےئزیشن کی صورت میں لکھی جا رہی ہے ۔مگر میں یہ سب کچھ دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔پنجاب کی سا لمیت پر سرائیکی بڑے گہرے اور گھنائونے وار کر ہے ہیں۔اب ان کو مزید بے لگام نہیںچھوڑا جا سکتا۔سرائیکی تحریک کوتوانائی دینے والی تمام جڑوں اور ذرائع کو کاٹنا ہوگا،اس لئے یہ کالم پڑھ کر میں نے سوچا کہ میں دنیا بھر کے پنجابیوں کوآواز دو ں اک کوک ماراں 
پنجابیوآؤ سارے مل کر ماتم کریں کہ ہمارا عظیم ہیرو راجہ پورس اب نہیں رہا ۔اس کی موت سرائکیا لائیزیشن کے مہلک ہتھیار سے واقع ہو چکی ہے ۔ آو سارے پنجابی مل کرماتم کریں کہ عظیم پورس جس نے سکندر اعظم کے آگے ہتھیار ڈالنے اور شکست ماننے سے انکار کردیا۔ اب نہیں رہا۔سپت سندھو سندھاوا کا عظیم جنگجو، چہنب کا شیر،پنجاب کا شیر دل مہا راجہ پورس اب نہیں رہا کیوں کہ سرائیکیالائزیشن کے ایک جان لیوا حملے میں جسے اردو لشکر کی پشت پناہی حاصل تھی کے ہاتھوں آج اس کی دوسری موت واقع ہوگئی ہے ۔

پورس پنجابی زندہ باد۔۔۔پنجاب پائندہ باد 

blank